40 سال تک مسلسل جاگنے کا دعویٰ کرنے والی خاتون، ڈاکٹرز نے تحقیق کی تو ایسا انکشاف کہ یقین نہ آئے

40 سال تک مسلسل جاگنے کا دعویٰ کرنے والی خاتون، ڈاکٹرز نے تحقیق کی تو ایسا انکشاف کہ یقین نہ آئے


40 سال تک مسلسل جاگنے کا دعویٰ کرنے والی خاتون، ڈاکٹرز نے تحقیق کی تو ایسا …

بیجنگ(مانیٹرنگ ڈیسک) ماہرین کے مطابق انسان بغیر سوئے چند دن ہی نکال پاتا ہے لیکن چین میں ایک خاتون نے 40سال تک مسلسل جاگنے کا ایسا حیران کن دعویٰ کردیا ہے کہ سن کر یقین کرنا مشکل ہو جائے۔ دی سن کے مطابق اس خاتون کا نام ’لی ژین ینگ‘ ہے اور وہ چین کے مشرقی صوبے ہینان کی رہائشی ہے۔ اس نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ ایک ایسی بیماری میں مبتلا ہے کہ گزشتہ 40سال سے مسلسل جاگ رہی ہے اور اس پر کوئی دوا بھی اثر نہیں کرتی۔

لی ژین ینگ کا کہنا تھا کہ اس کی بیماری نے ڈاکٹروں کو بھی حیران کر رکھا ہے۔ رپورٹ کے مطابق لی ژین ینگ اپنے علاقے میں ایک سیلیبریٹی کی حیثیت رکھتی ہے اور ہر شخص اسے جانتا ہے۔ ایک بار اس کے ہمسایوں نے اس کے کبھی نہ سونے کے دعوے کی حقیقت جاننے کے لیے اس کے ساتھ جاگنے کا فیصلہ کیا۔ وہ تمام رات لی کے ساتھ تاش کھیلتے رہے، ایک ڈیڑھ دن میں ہی تمام ہمسائے فرش پر ہی بے سدھ ہو گئے مگر لی جاگتی رہی۔

لی کے شوہر لیو شوچیان کا کہنا ہے کہ ابتداءمیں ڈاکٹر اسے بے خوابی کی بیماری قرار دیتے رہے اور نیند کی گولیاں تجویز کرتے رہے۔ میں نے لی کو نیند کی گولیاں لا کر دیں لیکن وہ بھی بے کار گئیں اور انہیں کھانے کے بعد بھی لی کو نیند نہیں آئی۔ لی کا کہنا ہے کہ آخری بار وہ 5سال کی عمر میں سوئی تھی۔

 لی کی اس صورتحال پر ڈاکٹروں کی ایک ٹیم نے اس کے مکمل معائنے کے بعد بتایا ہے کہ ایسا نہیں ہے کہ لی کبھی سوتی ہی نہیں، مگر اس کا سونے کا طریقہ دوسروں سے مختلف ہے۔ وہ اپنے شوہر سے باتیں کرتے ہوئے نیند پوری کر لیتی ہے۔ جب وہ اپنے شوہر سے باتیں کرتی ہے تو اس کی آنکھیں جھپکنے کی رفتار کم ہو جاتی ہے۔ یہی وہ وقت ہوتا ہے جب وہ اپنی نیند لے رہی ہوتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اپنے شوہر کے ساتھ باتیں بھی کر رہی ہوتی ہے۔یہ بیماری ’نیند میں چلنے کی بیماری‘ جیسی ہی ہے۔ اس بیماری میں سوتے ہوئے لی باتیں بھی کر سکتی ہے اور ایسے دکھائی دیتی ہے جیسے جاگ رہی ہو اور اپنے مکمل حواس میں ہو۔یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے کچھ لوگ نیند میں باتیں کرتے ہیں۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس



Leave a Reply

%d bloggers like this: