وہ مرد جن میں اپنی شریک حیات سے بے وفائی کرنے کا امکان بہت زیادہ ہوتا ہے، تحقیق کے بعد سائنسدانوں کا ایسا دعویٰ کہ خواتین بھی ایک دوسرے کا منہ دیکھتی رہ جائیں

وہ مرد جن میں اپنی شریک حیات سے بے وفائی کرنے کا امکان بہت زیادہ ہوتا ہے، تحقیق کے بعد سائنسدانوں کا ایسا دعویٰ کہ خواتین بھی ایک دوسرے کا منہ دیکھتی رہ جائیں


وہ مرد جن میں اپنی شریک حیات سے بے وفائی کرنے کا امکان بہت زیادہ ہوتا ہے، …

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) مردوں کا شریک حیات سے بے وفائی کرنا بہت قبیح عمل ہے مگر اب سائنسدانوں نے نئی تحقیق میں حیران کن طور پر کچھ مردوں کو بے وفائی میں بے قصور قرار دیتے ہوئے ایسا انکشاف کر دیا ہے کہ سن کر آپ دنگ رہ جائیں گے۔ دی سن کے مطابق سائنسدانوں نے تحقیقاتی نتائج میں بتایا ہے کہ کچھ مردوں میں بے وفائی کی خو جینیاتی طور پر ہوتی ہے، جس پر ان کا بس نہیں چلتا۔ یہ وہ مرد ہوتے ہیں جن میں مردانہ جنسی ہارمون ٹیسٹاسٹرون کا لیول زیادہ ہوتا ہے۔ جن مردوں میں یہ لیول زیادہ ہو، ان کے بے وفائی کرنے کے امکانات دوسرے مردوں کی نسبت کئی گنا زیادہ ہوتے ہیں۔

لندن سکول آف ہائی جین اینڈ ٹراپیکل میڈیسن، یونیورسٹی آف مانچسٹر اور نیشنل سنٹر فار سوشل ریسرچ کے تحقیق کاروں نے اس تحقیق میں 4ہزار سے زائد مردوں میں ٹیسٹاسٹرون لیول کا جائزہ لیا اور ان سے بے وفائی کے متعلق سوالات پوچھے۔ نتائج میں سائنسدانوں نے بتایا کہ جن مردوں نے ایک سے زائد جنسی پارٹنر رکھنے کا اعتراف کیا تھا ان میں ٹیسٹاسٹرون کا لیول دیگر کی نسبت پایا گیا۔

تحقیقاتی ٹیم کی سربراہ وینڈی میکڈویل کا کہنا تھا کہ جن مردوں میں ٹیسٹاسٹرون کا لیول زیادہ ہوتا ہے اس میں کچھ علامات ہوتی ہیں، جن سے ان کا پتا چلایا جا سکتا ہے۔ ایسے مردوں کے چہرے پر کیل مہاسے زیادہ نکلتے ہیں، بلڈپریشر قدرے زیادہ رہتا ہے، جسم پر بال زیادہ ہوتے ہیں، ان کا مزاج بدلتا رہتا ہے، ان میں ذہنی پریشانی، ڈپریشن اور چڑچڑے پن کی علامات ہو سکتی ہیں، ٹیسٹاسٹرون زیادہ ہونے سے چونکہ خصیے سکڑ کر چھوٹے ہو جاتے ہیں لہٰذا ایسے مردوں میں سپرمز کم پیدا ہوتے ہیں، ایسے مرد نیند سے متعلق عارضے Sleep Apneaکا شکار بھی ہو سکتے ہیں، ایسے مردوں میں سانس، دل اور بلڈپریشر کی بیماریاں بھی زیادہ ہوتی ہیں۔ 

مزید :

ڈیلی بائیٹس



Leave a Reply

%d bloggers like this: